Mrs H.D Taylor (Hazel Deneys Taylor)
Mrs H.D Taylor
Ex chairman Renala Estate
Mrs. Hazel Deneys Taylor
Chairman Ex-Renala Estate at CEBG Okara 1969-1991. Died 11-09-1994
Download Book Mam D Haweli PDF Free Download
یہ تاریخی اور قابلِ ستائش بنگلہ آج کل (میم دی حویلی ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔اب یہ صرف ایک بُھوت بنگلہ کا منظر پیش کرتا ہے۔آج ہمارا وزٹ صرف ایک بنگلہ کی طرف نہیں تھا!وضاحت صرف اِس اَمر کی ہے کہ زمبابوے کی رہائشی خاتون کو کیسے ہمارے ملک پاکستان کے شہر اوکاڑا کی تحصیل رینالہ خورد سے اِس قدر محبت ہوگئی کہ مزاحمت کے باوجود بھی اُس نے اس ملک کی سرزمین کو ترق کرنا مناسب نہیں سمجھا۔جبکہ اُس کا بیٹا بھی اُسے واپس آپنے وطن لیجانے آیا لیکن اُس نے یہاں سے جانے سے انکار کردیا۔اگر اب بھی اِس حویلی کا وزٹ کیا جائے تو دیکھنے والا باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اِس بنگلہ میں رہنے والی خاتون کی ایک ایک یاد اب بھی اس بنگلے سے منسلک ہے۔جبکہ چور،چکوں نے کچھ باقی نہیں چھوڑا لیکن پھر بھی کچھ باقیات ابھی باقی ہیں جو ہیزل کی یاد تازہ کرتی ہیں۔
یہ قدیم حویلی فن ِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔نہایت ہی شاندار اور نفیس بنگلہ ہے۔نقشہ و تعمیر کے لحاظ سے ہر چیز قابل ِ ستائش ہے۔اب یہ بنگلہ بوسیدہ ہوچکا ہے لیکن پھر بھی خوبصورتی کا شہکارہے۔اک گُمان ہوتا ہے کہ جب یہ بنگلہ آپنی شان وشوکت کے ساتھ آراستہ تھا۔تب یہ لاجواب ہوگا۔اس کے اندر لکڑی کافرش ہے اور تعمیراتی کام میں بھی عالی قسم کی لکڑی استعمال کئی گئی ہے۔جو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی زمانے کے سردوگرم نے اس بنگلے کو تو بوسیدہ کردیا ہے لیکن لکڑی ابھی بھی اپنی اصل ساخت کی حالت میں ہے۔
یہ بنگلہ اندر سے نہایت ہی سنان اور کسی خوفناک جگہ کی منظر کشی کرتا ہے،ایک دفعہ تو اندر داخل ہوکر کسی اجنبی خوف کا احساس ہوتا ہے۔جیسے ہالی وڈ کی ہورر موویز میں کسی خوفناک عمارت کی منظر کشی کی جاتی ہے!یہ بنگلہ بھی اُسی طرز کی طرح محسوس ہوتا ہے کیونکہ کہ کافی سالوں سے بند رہنے کہ وجہ
کچھ عرصہ پہلے لوگ یہاں داخل ہونے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ بنگلہ اب بُھوت بنگلہ کا منظر پیش کرتا ہے اور دوسرا اس بنگلہ میں کثیر تعداد میں بھڑوں کا بسیرا تھا۔اب ان بھڑ کا خاتمہ کردیا گیا ہے لیکن اُن کے گھرکو دیکھ کے بندہ حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ اتنی زیادہ مقدار میں آج تک کسی بھی جگہ پر اتنی تعداد میں کبھی بھی کسی نے بھڑ نہیں دیکھے ہونگے
!بنگلے کی پچھلی جانب پرآمدہ
جسکا فرش لکڑی سے بنا ہوا ہے ۔اور یہ اس طرز پر بنایا گیا ہے کہ باہر کی ہوا اس برآمدے کے رستے کمروں میں داخل ہوکر کمروں کو حوا دار بنایا جائے،پُرانے زمانے کے بنگلے کو جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا تھا۔تصویر میں نظر آنے والے ڈیپ فریزر کی موجودگی صرف اس بات کو ظاہر کر رہی ہی کہ یہ بوسیدہ ہوچکا ہے اور اب قابل استعمال نہیں ہے ۔ورنہ یہ اس برآمدے میں موجود نہ ہوتا۔
جہاں
دیگر سامان چوری ہوا ہے وہاں شائید یہ پیانو بھی! یہ پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ
یہ اب سرکاری تحویل میں ہو،کیونکہ مسز ہیزل ٹیلر کا بیٹا جون ،اپنی ماں کا سامان
واپس نہیں لے کے گیا تھا۔اور محبت کہ یہ پہلو صرف ہم مسلمان پاکستانی لوگوں میں
پائے جاتے ہیں جو آپنے پیاروں کے بچھڑنے کے بعد اُن کا سامان محبت بھرے انداز میں
سمبنھال کے رکتھے ہیں۔
مسز ہیزل ٹیلر کا پُرانہ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن !جو نیچے
فرش پر بکھرے سامان کی طرح پڑا کہ رہا ہہے کہ جناب !جہاں آپ لوگوں نے دیگر سامان
چوری کر لیا ہے وہاں مجھے بھی آپنے ساتھ لے جاتے ۔مجھے کیوں سردی میں اس گندے اور
ٹھنڈے فرش پر گلنے اور سڑنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔افسوس کہ سوائے صوفہ سیٹ پر کُشن
صیح حالت ؛میں نظر آرہے ہیں ۔باقی ہر چیز زِیر زَبر ہے۔چورں نے تلاشی کی غرض سے اس
بنگے کی ہر چیز کو اُلٹ پُلٹ کردیا ہے کہ شائید کہیں سے کوئی خزانہ ہاتھ آجائے۔
ہیزل کے گرد آلود، بوسیدہ جوتے اب بھی گھر کے ایک کمرے کے ریک پر موجود ہیں، جو وقت اور یادداشت کے خلاف ہیں۔ یہ ایک ویران حویلی ہے، ورنہ گھوڑوں کے پوسٹروں اور ان کی تفصیلات کو بچا لیں جو داخلی دروازے پر آپ کا استقبال کرتے ہیں، اور کچھ ٹوٹا ہوا فرنیچر مختلف جگہوں پر رکھا ہوا ہے۔ کھڑکیاں سب ٹوٹی ہوئی ہیں، اوپری منزل پر چڑیوں کے گھونسلے ہیں، اور چمنی فرش پر پڑی شگافوں سے اداس کھڑی ہے۔ بنگلے کا کل رقبہ 5 کنال اور 12 مرلہ ہے لیکن حفاظتی خدشات کے پیش نظر اس کا بڑا حصہ زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔اور اگر تاریخ صرف وہی ہے جو آپ کو یاد ہے، تو الفاظ یاد رکھنے کا ایک اچھا طریقہ ہیں۔ رینالہ اور ایچ ڈی ٹیلر کی جائیداد کے بارے میں دلچسپ تفصیلات ان کے بھتیجے لوئس وانرینن کی لکھی ہوئی کتاب سے نکلتی ہیں:
"رینالہ کو میرے دادا نے 1913 میں جھاڑی والے جنگل سے شروع کیا تھا، اور 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا، لیکن اس نے - یہاں تک کہ ایک مسلسل زوال کے ساتھ - ہندوستان کی تباہ کن تقسیم سے بچ گیا جب یہ اسٹیٹ نئی قوم پاکستان کا حصہ بن جائے گی۔" میرے والد کے بعد جب اس کے شوہر نے ہندوستان میں سب سے زیادہ اقتدار سنبھالا اور ہاٹل کو چھوڑ دیا۔ صدی کے وسط میں، انگریزوں کے جانے کا وقت تھا، وہ لوگ جو رہ گئے تھے، یا، ہیزل کی طرح، جو رینالہ سے محبت کرتے تھے یا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ پاکستانیوں؛ اور اس نے اپنے لئے ایک نام بنایا تھا، ایک ساکھ ہندوستان کی ہو سکتی ہے، لیکن مقامی لوگوں کو کام کی ضرورت تھی، اور بہت سے لوگ ان کے ساتھ چالیس سال یا اس سے زیادہ عرصے تک رہیں گے۔"
رینالہ سے آگے بڑھتے ہوئے تحصیل اوکاڑہ میں میر چاکر اعظم (جس کی حال ہی میں تزئین و آرائش کی گئی ہے) کے مقبرے سے زیادہ دور نہیں ایک اور حویلی ویران ہے۔ کوٹھی نولکھی، جیسا کہ اسے کہا جاتا ہے، مکئی اور گندم والی زرخیز زمین کے حصّوں میں آباد ہے۔ اور ناقص راستہ اسے عوام کی نظروں سے تقریباً پوشیدہ بنا دیتا ہے۔ چاروں طرف جھاڑیاں ہیں، جھاڑیوں نے ڈھانچے کی دراڑوں میں جڑ پکڑ لی ہے۔ یہ واقعی ایک افسوسناک منظر ہے، لیکن جب کہ ٹیلر کی حویلی میں اس کی پشت پناہی کرنے کے لیے کچھ حقائق ہیں، نولکھی خرافات اور تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔
مزید تفصیل !
برطانوی دور کی زمینی نوآبادیات (1912 کے بعد) کے دوران تعمیر کی گئی، یہ اسٹیٹ میجر ڈینیس ہنری وانرینن کو دی گئی تھی، اور 1938 میں ان کی موت کے بعد، ان کی بیٹی ہیزل ڈینیز ٹیلر، اپنے شوہر کے ساتھ، اس زمین کی نگران بنیں — یہاں تک کہ 1947 میں تقسیم کے بعد جب بہت سے دوسرے لوگ یہاں سے چلے گئے۔ بہت سارے تارکین وطن کے برعکس، ہیزل نے پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا، فارم کو ایک ماڈل اسٹیٹ میں تبدیل کیا—سڑکوں کی تعمیر، ریل رسائی، اصطبل، ایک گاؤں، مقامی لوگوں کے ساتھ زمین کا وعدہ بانٹنا ۔
پھر بھی اس کا سفر نہ تو آسان تھا اور نہ ہی محفوظ۔ اس اسٹیٹ کو 1948 میں سیلاب سے تباہ کن نقصان پہنچا، زمین کے لیز پر قانونی جنگیں کئی دہائیوں پر محیط تھیں، جن میں 1970 کی دہائی کے وسط میں پنجاب لینڈ کمیشن کی جانب سے منسوخی، بحالی اور حتمی تنسیخ شامل ہیں۔ اگرچہ وہ 1980 کی دہائی کے آخر تک عدالت میں باہر رہی، لیکن اسے 1991 میں زبردستی بے دخل کر دیا گیا، 80 سال کی عمر میں مارا پیٹا گیا اور ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ وہ زندہ رہیں، 11 ستمبر 1994 کو انتقال کر گئیں۔ اس کی آخری آرام گاہ حویلی کے بالکل باہر ہے جس سے وہ پیار کرتی تھی۔
آج، حویلی اب بھی رینالہ خورد میں کھڑی ہے، اگرچہ موسم خستہ اور زیادہ تر لاوارث ہے۔ اصل فرنیچر—صوفے، پیانو، ایک دادا کی گھڑی تقریباً نو بجے رک گئی—اپنی جگہ پر موجود ہے، اور اس کا پیانو جو اب بھی ایک گیراج میں بند، بیٹھا ہے۔ ایک خوفناک خاموشی اس کے گلیاروں میں پھیلی ہوئی ہے — لوگوں نے اس کے مال و اسباب کو چھیڑا تھا لیکن کتابیں اور ذاتی اشیا سمیت بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا — جو کچھ وہ قیمتی سمجھے اسے لینے میں بھی احترام کا مشورہ دیتے ہیں۔
مسز ٹیلر کے آخری سال ایک ایسی سرزمین میں پرسکون وقار اور ثابت قدم رہنے کے بارے میں بتاتے ہیں جسے ہر کوئی گھر نہیں بلا سکتا تھا۔ اس نے رینالہ خورد کو لیز سے گھر میں تبدیل کر دیا۔ اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ اور، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے رہنے کا انتخاب کیا، یہاں تک کہ جب اس کا وطن اس کا وطن نہیں تھا۔
آج 2025 میں، حویلی اس کی زندگی کا ایک نازک عہد بنی ہوئی
ہے - ایک نوآبادیاتی دور کا ڈھانچہ جو بڑی حد تک اچھوت لیکن غیر محفوظ ہے۔ اس کی
خاموشی کسی بھی محافظ سے زیادہ بلند آواز میں بولتی ہے - یہ وابستگی، نوآبادیاتی
میراث، قانونی جدوجہد، اور حتمی نقصان کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اگرچہ ورثے کے
علمبرداروں کی کچھ تحریریں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں، لیکن سرکاری تحفظ کی
کوششوں سے یہ جگہ بڑی حد تک نظر انداز ہے۔ اس کی بھرپور مقامی اور تاریخی اہمیت کے
باوجود کوئی تحفظ یا بحالی کا پروگرام نہیں بنایا گیا ہے۔
یہ صرف ایک عمارت نہیں ہے۔ یہ ایک جذباتی ذخیرہ ہے۔ ایک
عورت کی یادگار۔ پاکستانی ورثے کا ایک باب جو ابھی تک زندہ ہے اور ابھی تک پھسل
رہا ہے۔
• ہیزل ڈینیز ٹیلر—ایک برطانوی خاتون جسے 1938 میں نوآبادیاتی جائیداد
وراثت میں ملی اور وہ سیلاب، قانونی قبضے اور ذاتی تشدد سے گزری، لیکن 1994 میں
اپنی موت تک پاکستان میں ہی رہی۔
• اس کی حویلی - فن تعمیر اور یادداشت کی جگہ؛ اس کے کوریڈورز پہلے
کئ بار پیانو موسیقی، مباحثوں، زندگی سے گونجتے تھے۔ اب یہ خاموشی اور خاموشی میں
کھڑا ہے۔
• اس کی وراثت - بے گھر ہونے کی صورت میں ایک مستقل۔ زمین، یاد،
ہمت میں لکھی ہوئی زندگی۔
اس کی یاد - اور وہ حویلی جس سے وہ پیار کرتی تھی - کو وہ
احترام، ہمدردی اور تحفظ ملے جس کی وہ مستحق ہے۔ اس کہانی کو پنجاب اور اس سے باہر
کے وراثت، ہمدردی، اور تاریخی ذمہ داری کے بارے میں بات چیت شروع کرنے دیں۔ یہ
تاریخی بنگہ اب میم دی حویلی
یہ
تاریخی اور قابلِ ستائش بنگلہ آج کل
کے نام سے جانا جاتا ہے۔اب یہ صرف ایک بُھوت بنگلہ کا منظر پیش کرتا
ہے۔آج ہمارا وزٹ صرف ایک بنگلہ کی طرف نہیں تھا!وضاحت صرف اِس اَمر کی ہے کہ زمبابوے کی رہائشی خاتون کو کیسے ہمارے
ملک پاکستان کے شہر اوکاڑا کی
تحصیل رینالہ خورد سے اِس قدر محبت ہوگئی کہ مزاحمت کے باوجود
بھی اُس نے اس ملک کی سرزمین کو ترق کرنا مناسب نہیں سمجھا۔جبکہ اُس کا بیٹا بھی
اُسے واپس آپنے وطن لیجانے آیا لیکن اُس نے یہاں سے جانے سے انکار کردیا۔اگر اب
بھی اِس حویلی کا وزٹ کیا جائے تو دیکھنے والا باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اِس بنگلہ
میں رہنے والی خاتون کی ایک ایک یاد اب بھی اس بنگلے سے منسلک ہے۔جبکہ چور،چکوں نے
کچھ باقی نہیں چھوڑا لیکن پھر بھی کچھ باقیات ابھی باقی ہیں جو ہیزل کی
یاد تازہ کرتی ہیں۔
یہ
موسم سرما دسمبر اتوار2019 کی صبح تھی جب ہم نے اس تاریخ حویلی کی طرف
جانے کا ارادہ کیا۔کافی عرصے سے جانے کا ارادہ بن رہا تھا لیکن جا نہ سکے۔لیکن اس
بار ہم نے آپنے ارادے کو عملی جامہ پہنا دیا۔اس خوبصورت اور دلچسپ سفر
میں عدنان شفیق میرے ہمراہ تھے۔یہ تاریخی حویلی رینالہ شہر چوچک
روڈ پر 4کلومیٹر کی مسافت پر 4/1آر ،میں ملٹری فارم کی زمین
پرواقع ہے۔اس جگہ پر ہرخاص وعام کو غروج و خروج کی اجازت نہیں ۔
یہ
قدیم حویلی فن ِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔نہایت ہی شاندار اور نفیس بنگلہ
ہے۔نقشہ و تعمیر کے لحاظ سے ہر چیز قابل ِ ستائش ہے۔اب یہ بنگلہ بوسیدہ ہوچکا
ہے لیکن پھر بھی خوبصورتی کا شہکارہے۔اک گُمان ہوتا ہے کہ جب یہ بنگلہ اپنی شان
وشوکت کے ساتھ آراستہ تھا۔تب یہ لاجواب ہوگا۔اس کے اندر لکڑی کافرش ہے اور
تعمیراتی کام میں بھی عالی قسم کی لکڑی استعمال کئی گئی ہے۔جو اس کی خوبصورتی میں
مزید اضافہ کرتی ہے۔اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی زمانے کے سردوگرم نے اس بنگلے
کو تو بوسیدہ کردیا ہے لیکن لکڑی ابھی بھی اپنی اصل ساخت میں ہے۔ جب برطانیہ نے
پنجاب میں آب پاشی کے نظام کو قائم کیا اورزمین کانوآبیاتی
نظام کو 1912 میں متعارف کرایا تو اس خطے میں پہلی لیزز مین میں سے ایک جنرل دینسیز کو اُنیس صد پندرہ کو
دیا۔اُن دنوں ہیزل اپنے والدین کے ساتھ رہنے کے لئے آئی تھی۔
لیز
میں جو گاوں آتے تھے وہ اگے قابل ذکر ہیں۔یہ لیز کا معاملہ پاکستان ملٹری کوٹ کے
زیرِسایہ تکمیل ہوتا ہے اب،جب کہ تب یہ معاملہ بریٹش کورٹ کے زیرِ سایہ پایہ تکمیل
ہوا تھا۔
کے
گائوں لیز میں تھے۔اورRB 20/،
21/1RB ، 22/1RB ، 23/1RB ، 13A/1R ، 14A/1R ،
لیز 1915 سے 1935 تک تھا. 20 سال کی لیز کہ بعد میں اور 10 سال 1945 تک بڑھایا گیا ۔ تاہم ، میجردینییس ہیزی ونسن،اُنیس صد اڑتیس میں مرگیا ،تو اُن کی بیٹی ہیزل کے شوہر کرنل
جان ایڈ ایل ٹیلر نے لیز کو منظم کیا یہ چارٹرڈ (سی او) فرگوسن اے ایف فرم اکاوئنٹ
کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی نے تحصیل رینالہ اسٹیٹ لمیٹڈ میں حصص(شئیرز) منعقد کئے۔
مقامی
سیاسی حالات کی اچیت ، جوڑے نے کھیتوں کو تیار کیا ، اور سڑکوں کی تعمیر ، تحصیل
رینالہ ریلوے اسٹیشن ، پولیس اسٹیشن ، اور گھوڑوں ، paddock
اور ایک ماڈل گاؤں کے کے لئے مزید سہولت فراہم کی. ان کی
کارکردگی سے متاثر ہونے والے ، نوآبادیاتی ریاست نے اس وعدہ کے ساتھ دوسرے دس تک
لیز میں توسیع کی ,ٹیلر کا دس سال کی
مدت کی لیزکے
اختتام پر فارم خریدنے کے قابل ہو جائے گا. لیکن چیزیں جلد ہی تبدیل ہو گئی
ہیں ۔ اُنیس صد اڑتالیس میں یہ فارم
موسلادھار بارش کی نظر ہوگیا۔ جب 4,500 سے باہر 7,723 ایکڑرقبہ زیرآب ہوگیا۔. لیکن
یہ صرف ٹیلر کے لئے مسائل کا آغاز تھا ، خاص طور پر 1955 میں لیز ختم ہونے
کے بعد ، جب علاقے میں دیگر اسٹیٹ ہولڈرز نے ملکیت کو چیلنج کیا. تاہم ملتان کے
نائب کمشنر ، سردار عطاء محمد لغاری نے ٹیلر کے حق میں فیصلہ کیا اور انہیں مزید10
سال کے لیے لیز کی توسیع کی پیش کش کی ۔
آخر
میں, لیز 1969 سے 1979 تک بڑھا دیا گیا تھا1968 میں کرنل جون
ٹیلر کی موت واقع ہوگئی۔کرنل جون ٹیلر کی موت ہیزل کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ
ثابت ہوئی ،وہ اس صدمے سے باہر نہیں نکل رہی تھی ،اُس کا دل اس بات کو تسلیم ہی
نہیں کررہا تھا کہ اُس سے محبت کرنے والا شوہر اُسے اکیلاچھوڑ کر اس دنیا سے کوچ
کرگیا ہے۔کرنل جون ٹیلر کی موت کے بعد ہیزل کے لئے مزید مسائل
کھڑے ہوگئے ،سب سے بڑا مسلئہ لیئز پر لی گئی زمین ہاتھ سے جارہی تھی کیونکہ لیز کی
مدت تو کب سے ختم ہوگئی تھی لیکن اس مدت میں پہلے سے ہی مزید توسیع ہوچُکی
تھی۔ہیزل کے لئےاب قدم قدم پر مشکلات تھی ،اور اِن مشکلات کو اُسے اکیلے ہی سامنہ
کرنا تھا۔چناچہ ہیزل نے اس مدت میں مزید توسیع کے لئے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔
کرنل جون ٹیلر کی موت کہ بعد ایک سال کی توسیع کردی گئی۔
.
اس توسیع کے بعد مسز ٹیلر سے دباؤ کم نہیں کیا 1971 ،
صدر ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لاء ریگولیشن 115 کے تحت زمین کی ضبطی کو حکم دیا.
لیکن اس صورت میں منتقل کر دیا گیا تھا کہ وفاقی زمین کمیشن اس کے فیصلے دی ہے کہ
ریگولیشن 115 اس زمین پر لاگو نہیں کیا. اس کے نتیجے میں ، مسز
ٹیلر نے توسیع کی ، لیکن ایک غیر اختصاصی مدت کے لئے. اس کے بعد ، مسز
ٹیلر ایک مسلسل قانونی اور حکومت کے ساتھ اعصاب کی جنگ میں الجھ گئی تھی۔.
1973 میں ، اسی وفاقی زمین کمیشن نے اس کے پہلے آرڈر کو دوبارہ غور اور لیز کو
منسوخ کر دیا. لیکن اس نے ایک بار پھر 1974میں اس کے فیصلے کو تبدیل کر دیا.
آخر میں مسز ٹیلر کے خلاف اس کے فیصلے کو نظر ثانی کے بعد اُنیس صد اُناسی تک لیز
دی۔
. مسز ٹیلرنے قانونی نظام کے لئے سہارا لیا اور 1989 تک
قیام کے حکم دیا گیا تھا. وہ مارشل لاء ریگولیشن کی درخواست مقابلہ کرنے کے
لئے جاری رہے جبکہ 115 یہ مارشل قانون اٹھایا گیا تھا کہ یہ کسی طور پر اب اس پر
لاگو نہیں کیا گیا تھا. لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ
وہ اس ملک کا حکم دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کو صوبائی حکومت کو ہتھیار ڈالنے کی
ہدایت کرے ۔ یہ 1991 میں ایک ابتدائی صبح تھی جب چند افراد ، جس میں ایک
وکیل ، ایک دکان دار ، ایک ڈرائیور اور سول اور فوجی ریاست عہدایداروں کی طرف سے ایک
مزدور کی قیادت مسز ٹیلر کے فارم ہاؤس میں مجبوراً بھجوائی. اگرچہ 80 سالہ
عورت سے کوئی مزاحمت نہیں تھی ، سوائے ایک
اس
کے گھر چھوڑنے سے انکار ،
پر
80 سالہ ہیزل جو مسز ٹیلر کے نام سے جانی جاتی تھی ،کو گھر
خالی کرنے کو کہا ،جس پر مسزٹیلر نے مزاحمت کی اور اُسے کافی چوٹ آئی جس کے بعد
اُسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ۔یہ ساری تفصیلات بیگم عابدہ سے معلوم ہوئی جو مسز
ٹیلر کی دوست تھی۔
مسز
ٹیلر سےمدت پوری ہونے کے بعد لیز واپس لے لی گئی اور اُسے اس گھر چھوڑنے
کوبھی مجبورکیا گیا۔لیکن اس گھر سے دلی وابستگی کے باعث مسزٹیلر نے یہ گھر چھوڑنے
سے انکارکردیا۔شائد حکومت عہدےداربھی یہ سوچ کر خاموش ہوگئے کہ یہ بُڑھیا کب تک اس
گھر میں قابض رہے گی۔مسز ٹیلر زمبابوکے شہر (ربودیسا) کی رہائشی تھی۔اُسکا بیٹا
اُسے لینے بھی آیا تھا کہ ماں اپنے ملک زمبابوے چلتے ہیں ،اپنے دیس میں جو ہمارا
ہے ،لیکن ہیزل نے جانے سے انکار کر دیا۔
ہیزل مسز ٹیلراپنے بیٹے (جان ونرس) کے ساتھ آپنے وطن واپس جا کر اپنی باقی ماندہ زندگی اچھے طریقے سے گزار سکتی تھی ،لیکن اُس نے پاکستان کے شہر اوکاڑا کی تحصیل رینالہ خوردمیں مرنے کو ترجیح کیوں دئی؟جبکہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ زمبابوے جا سکتی تھی جہاں اُس کے
تحصیل رینالہ ! بیٹے کے لئے گھر تھا ؟ لیکن کیا وہ گھر کی جگہ پر غور کر سکتے ہیں جب جوکہ ان کا وطن نہیں تھا ؟ مسز ٹیلر کی زندگی کو آپ ایک گھر نہیں کہہ سکتے ہیں ۔اس کے بارے میں ایک راز کھولتا ہے. یہ کہ جہاں آپ پیدا ہوئے ہیں یا آپ کے آباؤ اجداد رہتے ہیں ، یا جہاں آپ رہتے ہیں اور آپ کے جذبات کی سرمایہ کاری کی جگہ ہے ؟ جو آپ کا وطن نہیں ہے ،
لوگوں
نے مسز ٹیلر کے پُرانے جوتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔یہ پُرانی حویلی جدید ومنظم طریقے
سے تعمیر کروائی گئی تھی ،کمرے میں لکڑی کی بنی ہوئی الماریوں کو دیکھ کہ یہ
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی مہارت اور خوبصورتی سے اس بنگلے کو آراستہ کیا گیا
ہوگا جو اب ایک بُھوت بنگلہ کا منظر پیش کررہا ہے۔میں اس بات کہنے سے گریض نہیں
کروں گا کہ کمزور دل کے افراد اکیلے اس بنگلے میں سیاحت کے لئے نہیں
آسکتے۔
یہ
بنگلہ اندر سے نہایت ہی سنان اور کسی خوفناک جگہ کی منظر کشی کرتا ہے،ایک دفعہ تو
اندر داخل ہوکر کسی اجنبی خوف کا احساس ہوتا ہے۔جیسے ہالی وڈ کی ہورر موویز میں
کسی خوفناک عمارت کی منظر کشی کی جاتی ہے!یہ بنگلہ بھی اُسی طرز کی طرح محسوس ہوتا
ہے کیونکہ کہ کافی سالوں سے بند رہنے کہ وجہ
سے
شکستہ وذبوحالی کاشکار ہے۔
جب اس
حویلی کی رونقیں بحال تھی تب اس کی شان وشوکت
ہی الگ تھی ،ایک وقت میں گاڑی اور گھوڑا بھگی
دونوں تیار کھڑی میم کا انتظار کرتی تھی۔اگر میڈم گاڑی پر روانہ ہونا چاہیں تو
گاڑی تیار ہو اگر بگھی گھوڑا پر سفر کرنا پسند کریں تو وہ ہمہ وقت یتار ہو۔
Download Book Mem D Haweli


.jpg)





Comments
Post a Comment